کراچی: خواتین کے مبینہ ریپ پر اسکول پرنسپل کے خلاف پولیس کی تفتیش کا آغاز

پولیس نے ملزم کوویڈیوز وائرل ہونے کے بعد گرفتار کرلیا تھا

کراچی پولیس نے گلشن حدید میں واقع نجی اسکول کے پرنسپل کے خلاف خواتین کے مبینہ ریپ اور بلیک میلنگ کی تفتیش شروع کردی اور ان کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) بھی درج کرلی گئی ہے۔

اسٹیل ٹاؤن پولیس نے نجی اسکول کے پرنسپل کے خلاف خواتین کے ریپ اور دیگر الزامات پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ملیر کے ایس ایس پی انوسٹی گیشن علی مردان کھوسو نے بتایا. کہ پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے. کہ یہ ایک انفرادی عمل تھا اور اس میں کوئی گروپ ملوث نہیں ہے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران دعویٰ کیا ہے. کہ متاثرہ خواتین ان کے ادارے کی اساتذہ یا ملازمائیں نہیں تھی اور ان کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے اور جو کچھ ہوا. اس پر پچھتاوا ہے۔

اسٹیل ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نند لعل نے گزشتہ روز معاملے سامنے آنے کے بعد بتایا تھا. کہ ٹیکنیشن جب آئی جی ایم (عرفان غفور) ایجوکیشن سینٹر میں سی سی ٹی وی کیمرے ریپیئر کرنے گیا. تو وہاں انہیں قابل اعتراض ویڈیوز ملیں۔

ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری

بعد ازاں ان کے ایک ساتھی نے ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کردیں جبکہ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ مذکورہ شخص نے ان سے 10 لاکھ روپے بھتہ مانگا تھا۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن ملیر علی مردان کھوسو نے بتایا. کہ تفتیش کے بعد دونوں ملزمان کے کردار کی وضاحت ہوگی. اور اب ٹیکنیشن اور ان کا ساتھی دونوں کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی ملیر حسن سردار نے میڈیا کو بتایا کہ تفتیش کی سربراہی ڈی ایس پی کر رہے ہیں، جس میں خاتون انسپکٹر کو بھی شامل کیا گیا ہے. تاکہ متاثرہ خواتین کو تفتیش کاروں کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروانے میں مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.