پاکستان میں ایچ آئی وی کے مثبت کیسز میں تشویش ناک اضافہ

دنیا میں ہر سال یکم دسمبر کو ایڈز کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اور امسال بھی پاکستان میں اس بیماری سے متعلق آگاہی کی غرض سے سیمینار، واکس اور دوسری سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ایڈز
مارچ 2021 میں لی گئی اس تصویر میں لیبارٹری ٹیکنیشن جنوبی صوبہ سندھ کے علاقے رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی امدادی مرکز میں ایچ آئی وی ٹیسٹ کے لیے ایک شخص سے خون کا نمونہ لے رہا ہے

موزی مرض سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے اقدامات اٹھانا صحیح حکمت عملی ہے۔ تاہم ماہرین اور حکومتی ادارے پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے کیسسز کو لے کر تشویش میں مبتلا ہیں۔ 

اس حوالے سے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بھی اپنی ٹویٹ میں محکمہ صحت سے ایڈز کے خاتمے کے لیے کوششوں کی اپیل کی ہے۔

وزیراعظم نے لکھا:۔ ‘بچوں اور نوعمروں میں ایچ آئی وی ۔اور ایڈز کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ میں وزارت صحت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس لعنت سے لڑنے کے لیے جانچ، روک تھام اور علاج کے بارے میں بیداری پر توجہ مرکوز کریں۔ آج ایڈز کے عالمی دن پر، آئیے ہم سب ایچ آئی وی سے جڑے بدنما۔ داغ کو ختم کرنے کا عہد کریں۔’ 

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق پاکستان بھارت اور نیپال سے چند قدم پیچھے رہتے ہوئے۔ ایڈز کی وبا کے معاملے میں جنوبی ایشیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

ادارے کے مطابق تمام تر کوششوں کے باوجود گذشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں ایڈز ۔انفیکشن کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور درحقیقت ملک۔ ‘کم سے کم پھیلاؤ’ کے لیول سے ‘مرتکز وبا’ کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔  

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی آفیشل ویب سائٹ پر دیے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو لاکھ 10 ہزار افراد ایڈز کی وجہ بننے والے وائرس (ایچ آئی وی) کا شکار ہیں۔ جن میں سے۔ تقریبا 54 ہزار ملک میں قائم 51 ایڈز مراکز میں رجسٹرڈ ہیں۔    

اعداد و شمار کيا کہتے ہيں

اقوام متحدہ کے ایڈز پروگرام (UNAIDS) کے اعداد و شمار کے مطابق ایڈز کے وائرس کا شکار ہونے والوں میں ایک لاکھ 70 ہزار پندرہ سال یا زیادہ عمر کے مرد، اور اسی عمر کی 41 ہزار خواتین ہیں، جبکہ 14 سال یا اس سے۔ کم عمر کے بچوں کی تعداد 46 ہزار ہے۔  

عالمی ادارہ صحت کے۔ مطابق 2021 تک  دنیا بھر میں تین کروڑ 80 لاکھ 40 ہزار افراد ایچ آئی وی ۔کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں 17 لاکھ بچے شامل ہیں۔  

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) ایچ آئی وی کے۔ عالمی ردعمل میں پیچھے رہ جانے والی آبادیوں پر نئی توجہ مرکوز کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے۔

ادارے کے مطابق ایڈز کی وجہ بننے والے وائرس (ایچ آئی وی) کے ساتھ زندگی۔ بسر کرنے والے صرف 52 فیصد بچوں کو زندگی بچانے والا علاج میسر ہے۔

‘اگر ہم بچوں میں نئی ایڈز انفیکشن کے خاتمے میں پیش رفت دکھا سکتے ہیں۔ اور یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ایسے سب بچوں کو ایچ آئی وی کا معیاری علاج (اینٹی ریٹرو وائرلز یا اے آر ویز) میسر ہے، تو ہم پر امید ہیں کہ 2030 تک تمام آبادیوں میں ایڈز ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایڈز کے خاتمے کے لیے زیادہ سیاسی عزم کو یقینی بنا سکتے ہیں۔’

عالمی ادارہ صحت کے مطابق عالمی سطح پر 70۔ فیصد ایچ آئی وی کے نئے شکار پسماندہ آبادیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اور اکثر مجرم ہوتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ صرف ایچ آئی وی۔ خدمات کو بڑھا کر خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.