پیرس اولمپکس: ارشد ندیم سمیت سات رکنی پاکستانی دستے میں شامل ایتھلیٹس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پیرس

پیرس میں اولمپکس رواں مہینے جولائی کی 26 تاریخ سے شروع ہو رہے ہیں اور اس مرتبہ ان مقابلوں میں سات پاکستانی شرکت کریں گے۔

پاکستان نے آخری مرتبہ اولمپکس میں کوئی بھی تمغہ بارسلونا میں 1992 میں جیتا تھا۔ اس برس ہاکی ٹیم تیسرے نمبر پر رہی تھی اور کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ انفرادی مقابلوں میں آخری مرتبہ پاکستان نے کوئی بھی تمغہ 1988 میں جیتا تھا اور یہ میڈل جیتنے والے باکسر حسین شاہ تھے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی ارشد ندیم، کشمالہ طلعت، گلفام جوزف، غلام مصطفیٰ بشیر، جہاں آرا نبی، محمد احمد درانی اور فائقہ ریاض کریں گے۔

ان میں سے ارشد ندیم، کشمالہ طلعت، گلفام جوزف اور غلام مصطفیٰ بشیر کو اولمپکس میں براہِ راست انٹری مل گئی تھی جبکہ جہاں آرا نبی، فائقہ ریاض اور محمد احمد درانی وائلڈ کارڈ انٹری پر اولمپکس میں شرکت کر رہے ہیں۔

سنہ 2021 میں جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقد ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں 9 پاکستانی ایتھلیٹس نے حصہ لیا تھا، تاہم اس بار بھی کوئی پاکستانی کھلاڑی ملک کے لیے میڈل نہیں جیت سکا تھا۔

بین الاقوامی شہرت

پاکستانی دستے میں شامل ارشد ندیم وہ کھلاڑی ہیں جو نہ صرف بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں بلکہ ان سے گذشتہ اولمپکس مقابلوں میں بھی میڈل جیتنے کی امید لگائی گئی تھی اور اس کے بعد سے سنہ 2022 میں کامن ویلتھ گیمز میں سونے اور ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد ان سے لگائی گئی امیدوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

آئیے نظر ڈالتے ہیں ان پاکستانی ایتھلیٹس پر جو پیرس اولمپکس کے دوران ایکشن میں نظر آئیں گے۔

ُپیرس اولمپکس، پاکستان، ارشد ندیم
،ارشد ندیم کا تعلق صوبہ پنجاب کے علاقے میاں چنوں سے ہے

ارشد ندیم (جیولن تھرو)

ارشد ندیم پاکستان واپڈا سے منسلک ہیں اور ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے علاقے میاں چنوں سے ہے اور وہ پاکستان کے سات رکنی اولمپکس دستے میں میڈل حاصل کرنے کی سب سے زیادہ امید بھی ان ہی سے لگائی جا رہی ہے۔

27 سالہ ارشد ندیم ماضی میں پاکستان کے لیے کامن ویلتھ گیمز میں سونے اور عالمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 2017 میں اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

گذشتہ مہینے ارشد ندیم کو فِن لینڈ میں پاوو نورمی گیمز میں حصہ لینا تھا تاہم وہ پنڈلی میں انجری کے سبب ان مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔

لیکن ارشد ندیم اب بھی پُرامید ہیں کہ وہ پیرس اولمپکس میں اچھی کارکردگی دکھا پائیں گے۔

پاکستانی اخبار ڈان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’انجریاں میرے لیے عام سے بات ہے، خاص طور پر اس وقت جب موسم انتہائی گرم اور درجہ حرارت 45 سے 47 تک پہنچا ہو۔ اس کی وجہ سے پسینہ زیادہ آتا ہے اور انجری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘

وہ ماضی میں 90 میٹر سے زائد کے فاصلے پر بھی جیولن پھینک چکے ہیں۔

ُپیرس اولمپکس، پاکستان، ارشد ندیم
،کشمالہ طلعت کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی سے ہے

کشمالہ طلعت (نشانہ باز)

21 سالہ پاکستانی نشانہ باز کشمالہ طلعت نے رواں برس انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں منعقد ہونے والی ایشین شوٹنگ چیمپیئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا. اور ان کی اسی کامیابی کے سبب وہ پیرس اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر گئی تھیں۔

پیرس اولمپکس میں کشمالہ طلعت نشانہ بازی کے 10 میٹر اور 25 میٹر کے مقابلوں میں حصہ لیتی ہوئی نظر آئیں گی۔

خواتین کی نشانہ بازی کی 10 میٹر کی عالمی رینکنگ میں کشمالہ طلعت 37ویں اور 25 میٹر کی عالمی رینکنگ میں 41ویں نمبر پر ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کشمالہ طلعت کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی سے ہے. اور وہ جہلم میں فوجی افسران اور ایک غیر ملکی کوچ کے زیرِ تربیت رہی ہیں۔

ان کی 53 سالہ والدہ پاکستانی فوج کی نرسنگ سروس میں بطور میجر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

faiqa

فائقہ ریاض (سپرنٹر)

فائقہ ریاض نے گذشتہ برس نیشنل چیمپیئن شپ میں 100 میٹر کی ریس جیتی تھی. اور پاکستان کی ’تیز ترین خاتون‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

چند دن قبل چینی نشریاتی ادارے کو دیے گئے. ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہر کھلاڑی کے لیے اولمپکس میں جانا بہت بڑا خواب ہوتا ہے. اور یہ خواب میں نے پورا کر لیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں پاکستان کی عوام سے درخواست کروں گی. کہ وہ میرے لیے دعا کریں تاکہ میں اولمپکس میں بہترین کارکردگی دکھا سکوں۔‘

فائقہ ریاض کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے حافظ آباد سے ہے۔ وہ اکاؤنٹنگ اور فنانس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں۔

فائقہ ریاض ماضی میں ہاکی بھی کھیلتی رہی ہیں. اور وہ سنہ 2016 میں تھائی لینڈ کے دورے سے قبل لگائے گئے. خواتین کی ہاکی ٹیم کے تربیتی کیمپ کا حصہ بھی تھیں۔

ghulam

غلام مصطفیٰ بشیر (نشانہ باز)

غلام مصطفیٰ بشیر ماضی میں ٹوکیو اور ریو اولمپکس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس میں غلام مصطفیٰ بشیر 25 میٹر فائر پسٹل ایونٹ کے دوسرے مرحلے میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے، جس کے بعد وہ فائنل مرحلے تک رسائی حاصل نہیں کر سکے تھے۔

37 سالہ پاکستانی نشانہ باز نے 2022 میں مصر کے شہر قاہرہ میں ورلڈ چیمپیئن شپ کے دورن کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

غلام مصطفیٰ بشیر کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر کراچی سے ہے۔

gulfam

گلفام جوزف (نشانہ باز)

گلفام جوزف ٹوکیو اولمپکس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور انھوں نے نشانہ بازی کے مقابلوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔

تاہم جہلم سے تعلق رکھنے. والے نشانہ باز پہلے راؤنڈ میں ٹاپ 8 کھلاڑیوں میں جگہ نہیں بنا سکے تھے. اور اگلے مرحلے تک کوالیفائی نہیں کر سکے تھے۔

وہ پہلے راؤنڈ میں 9ویں پوزیشن پر رہے تھے۔

گلفام جوزف رواں برس انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں ہونے والی ایشین چیمپیئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

وہ 2022 میں قاہرہ میں ہونے والی عالمی شوٹنگ چیمپیئن شپ میں چھٹی پوزیشن پر رہے تھے. اور پیرس اولمپکس کے لیے. براہ راست کوالیفائی کر گئے تھے۔

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.