چینی ڈش ’چکن منچورین‘ انڈیا میں ایجاد ہوئی یا پاکستان میں؟

پاکستان
چکن منچورين

سموسہ بنانے کی ترکیب انڈیا سے شروع ہوئی یا پاکستان سے؟ بریانی انڈیا کے شہر حیدرآباد میں بننی شروع ہوئی یا پاکستان کے شہر کراچی میں؟

آئے روز انڈیا اور پاکستان کے صارفین سوشل میڈیا پر کھانوں سے لے کر کرکٹ تک کسی نہ کسی موضوع پر کئی لڑائیاں لڑتے اور ایک دوسرے پر بازی لیجانے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔۔ آج کی لڑائی ایک چائینز ڈش کے دیسی ورژن پر ہے۔

کیا آپ نے کبھی چکن منچورین کھاتے ہوئے سوچا کہ اس ڈش کی ابتدا کہاں سے ہوئی ہو گی؟ اور ایک دن یہ چینی ڈش انڈیا پاکستان میں اگلی جنگ کا سبب بن سکتی ہے؟

ہمارا گمان تو یہی تھا کہ دوسرے ملکوں کے دیگر کئی کھانوں کی طرح پاکستان کے کسی شیف نے تجرباتی طور پر مقامی مسالے وغیرہ استعمال کر کے اسے اس حالت میں لایا ہو گا جسے آج ہم چکن منچورین کے پاکستانی ورژن کے نام سے جاتنے ہیں۔

پاکستانی صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ لاہور سے ایجاد ہوئی مگر انڈین ہیں کہ مان نہیں رہے۔۔۔ اس ڈش کو لے کر دونوں ملکوں کے صارفین کے مابین سوشل میڈیا پر جو عالمی جنگ چل رہی ہے اسے دیکھ کر ہمیں تو ڈر ہے کہیں واقعی ایک چینی ڈش کو لےکر دونوں ملکوں میں جنگ ہی نہ چھڑ جائے۔

بحث کا آغاز

معاملہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ٹوئٹر پر چکن منچورین کی ترکیب پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’چائنیز اور پاکستانی کھانے کا ملاپ – چکن منچورین جو جنوبی ایشیا کے چینی ریستورانوں۔ میں بے حد مقبول ہے۔‘

امریکی اخبار میں اس ترکیب کے ساتھ ڈش کی ابتدا کے متعلق مصنفہ زینب شاہ نے لکھا کہ 90 کی دہائی کے اوآخر میں پاکستان کے شہر لاہور کے ریستوران سن کوانگ میں کئی تجربات کے بعد چکن منچورین کا یہ ورژن تیار کیا گیا۔

بس اس ڈش کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی دیر تھی، نیویارک ٹائمز کی پوسٹ کے کمنٹس سیکشن میں ایسی لڑائی جاری ہے کہ شاید صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چین سے مدد لینی پڑ جائے۔

زویا طارق لکھتی ہیں کہ پاکستانی چائنیز جیسا چینی پوری دنیا میں نہیں ملتا۔ ان کا دعویٰ ہے۔ کہ پاکستان میں رہنے والے چینی بھی اس سے متفق ہیں۔

ناینکا نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ نیلسن وانگ نامی انڈین چینی شیف نے ایجاد کی تھی۔ وہ کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے ریستوران ممبئی میں ہیں لہذا یہ ایک انڈین چینی ڈش ہے۔‘

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.